درد بہنے سے پریشان بھی ہو سکتا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیادرد بہنے سے پریشان بھی ہو سکتا ہے
کوئی غم خانے میں حیران بھی ہو سکتا ہے
آئینہ حسن نکھارو گے اگر عشق کے ساتھ
رستہ آسان سے آسان بھی ہو سکتا ہے
نوکِ قرطاس پہ سورج یہ ہمارے غم کا
شعلہءِ ہجر کا سامان بھی ہو سکتا ہے
وہ جو تصویر کے اندر سے نکل آیا ہے
میرا دلدار ، مری جان بھی ہو سکتا ہے
اک نئی طرز کا لکھا ہے فسانہ جب تو
اک نیا پیار کا عنوان بھی ہو سکتا ہے
جس کو ہے سیجِ محبت پہ سلایا وشمہ
وہ فقط رات کا مہمان بھی ہو سکتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






