درد عشق ہے کہ جیون کا جنوں عارف
Poet: ا ے ایس عارف By: ا ے ایس عارف, Mississaugaآئے ہو تو درد عشق کی دوا کر جانا
تم نصیب جان ہو دو پل زرا ٹھہر جانا
دور سورج کے ندیا میں ڈوبنے سے پہلے
تم میری روح کے سرابوں میں اتر جانا
راہ عشق کے رنگ بھی عجب نرالے ھیں
عشق جاناں میں کبھی جاں سے گزر جانا
ٹھٹھرتی شام کی آغوش میں سمٹے ہو ئے
نئی صبح کے لئے رات بھر میں سنور جانا
صبا نے دیکھا نہیں مڑ کر کبھی آتے جاتے
کسی کے شر سے پھولوں کا یوں بکھر جانا
رواج عشق یہ نہیں کہ دو پل گراں گزر ے
لطف عشق میں تو صدیوں کا بھی اثر جانا
یادش بخیر
وہ لب کہ تراشے ہوئے ہیروں کی طر ح
وہ زلفیں کہ گھٹاؤں کا سماں لگنا
لو دیتے ہوئے عارض کی سرخیوں کا اثر
مہکتے پھو لوں کا سر اٹھا کے حیراں لگنا
وہ آنکھیں کہ خوابوں میں ڈوبے ہوئےنگینے
وہ چشم کہ آہو کا جنگل میں پریشاں لگنا
درد عشق ہے کہ جیون کا جنوں عارف
ہر شے میں تر ے سایوں کا گماں لگنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






