درد میں نہایت شدت ھے جاناں
Poet: عمر خان عمرٓ By: Umar khan, Islamabadدرد میں نہایت شدت ھے جاناں
وصال میں کتنی مدت ھے جاناں
جیسے چاند کو چاندنی سے ھے
تم سے ایسی محبت ھے جاناں
تم سے نہ ہو پائے گی انسیت
خلوص کی بڑی قلت ھے جاناں
کاش محبت بھی مکافات ہوتی
مجھے تم سے محبت ھے جاناں
اپنے حصے میں غم مانگے ہیں
تیرے نصیب میں عفت ھے جاناں
جاناں حکم کرو غلام حاضر ھے
آخر کس بات کی دقت ھے جاناں
آپ بنا نقاب کے جو یوں نکلتی ہو
عمر* کے لیئے بڑی ذلت ھے جاناں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






