درد چھپائے ہیں
Poet: Dr Ch Tanweer Sarwar Shakar By: Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahoreدرد چھپائے ہیں میں نے بہت اپنے سینے میں
کھائے ہیں زخم کتنے ہم نے اپنے جینے میں
ہر کوئی کرتا ہے تصور بوجھ مجھے نہ جانے کیوں
مرتا ہوں کئی بار، کئی بار جیتا ہوں مہینے میں
ہے جو کوئی سنے میری درد بھری داستان
آئے گی زخموں کی بو اب میرے پسینے میں
اب جو بھر گیا دل میرا غموں سے
حرج کیا ہے پھر ساقی پینے پلانے میں
رس رہا ہے ہر زخم سے اب تو خون میرا
کیا فائدہ ہو گا اب شاکر زخموں کو سینے میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






