درد کی اوٹ میں پلکوں کو جھکا کر رونا
Poet: zain shakeel By: zain shakeel, gujratدرد کی اوٹ میں پلکوں کو جھکا کر رونا
رونے والوں کو بہر طور ہنسا کر رونا
درد کو بانٹنے آ جائیں یہ جھونکے سارے
یوں مرا نام ہواؤں کو بتا کر رونا
ـلوگ لے لے کے مرا نام ستائیں گے تمہیں
آنسوؤں کی کوئی تمہید بنا کر رونا
آنے والا نہ نمی دیکھ کے واپس پلٹے
اپنی آنکھوں کو بھی راہوں میں بچھا کر رونا
کوئی بھی دردادھر سے نہ اُدھر ہو پائے
اپنے اشکوں کی بھی ترتیب لگا کر رونا
لوگ ہر بات پہ محشر سا اُٹھا دیتے ہیں
تم کبھی حال نہ اوروں کو سنا کر رونا
ایسے تنہائی میں مت رو کے گنواؤ مجھ کو
میں جو آ جاؤں تو سینے سے لگا کر رونا
بھیجنا ہاتھ پرندوں کے، غموں کے نوحے
سوگ میرا یوں ہواؤں میں منا کر رونا
زینؔ اس واسطے ٹھہری نہیں حالت اپنی
ایک ہی شخص کو خوابوں میں بُلا کر رونا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






