درد
Poet: Ameer By: Amir Ahmad, Rawalpindiپرنم ہوں دل میں درد ہے اک چھایا ہوا
روٹھہ گئےجنکی خاطر تھا گلشن سجایا ہوا
کرتے تھے فقط دل لگی ہم تو یوں ہی
کل ہی دیکھاان کے چہرے پہ غصّہ آیا ہوا
وہ کیا روٹھے کہ دنیا اجڑ گئی میری
لٹ گیا میرا سب کچھ، میں نے جو تھا کمایا ہوا
آ جاۓ جو موت تو غور سے دیکھنا میت کو میری
پا لو گےتم بھی ہوتا ہے کس طرح اپنوں کا ستایا ہوا
ذرا سنبھل کے چلنا، یہ دیس ہے ان ہی کا
کچھ کام کا نہیں بعد کا پچھتایا ہوا
زبان تو رک گئی نہ روک سکا آنکھوں کو میں
دیکھا نہ گیا زلفوں کو گالوں پہ یوں پھیلایا ہوا
میری خوشیوں کی انتہا اگر پوچھتے ہو دوستو
مدتوں مانگی دعائیں دیکھوں چہرا ان کا مسکرایا ہوا
میری ہر خوشی پہ پہرا ہے ستم گر زمانے کا
لگتا ہے امیر یہ زمانہ بھی انہی کا سکھایا ہوا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






