درد
Poet: نور دلکشؔ By: noordilkash, indiaجب کبھی ہم ملہار گاتے ہیں
اُس کی نظروں کی وار گاتے ہیں
زندگی روز تیرے سازوں پر
ہم تُجھے بار بار گاتے ہیں
یوں تو چہرے سے ہے خوشی ظاہر
درد دل میں ہزار گاتے ہیں
مُفلسی مین بھی نغمۂ عشرت
لوگ کیوں بار بار گاتے ہیں
ہم محبت کے، پیار کے ،نغمے
ہوکے بے اِختیار گاتے ہیں
کیا یہ سازش ہے ،باغبانوں کی
پھول روتے ہیں خار گاتے ہیں
اُس سے مل کر گلے یہ، دیکھ لیا
اُس کی بانہوں کے ہار گاتے ہیں
تُم بھی دلکش ؔ کوئی تو چھیڑو دُھن
سارے نغمہ نگار گاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






