دریا کبھی آنکھوں سے محبت کا بہا کر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااخلاص ہے کیا چیز زمانے کو بتا کر
دریا کبھی آنکھوں سے محبت کا بہا کر
اب صبح کی بانہوں میں انہیں ڈھونڈ رہی ہوں
کچھ خواب جو آنکھوں میں ہی رکھے تھے سجا کر
یادوں کے تعاقب میں گزاری ہیں یہ صدیاں
ملا کچھ بھی نہیں دیکھو ہمیں جان گنوا کر
اس رات کی آغوش میں چمکیں گے نہ تارے
اب دید کی کرنوں سے تو ہر سمت ضیا کر
جب آنکھ کی تحویل میں آنسو ہی نہیں ہیں
کیا لینا ہے پھر دردِ محبت کو بہا کر
چمکے ہیں مرے ساتھ بجھی شب کے ستارے
نکلوں جو کبھی چاند کی کرنوں سے نہا کر
وہ پیار کا پنچھی ہے پلٹ آئے گا وشمہ
تو عشق کی مسجد میں شب و روز دعا کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






