دستک
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.Aہوئی دروازے پے دستک کوئی آیا تھا
نکل کے دیکھا تو وہاں ایک سایہ تھا
جنہیں سمیٹا تھا اپنی بند پلکوں میں
کھلی جب آنکھ وہ اپنا نہیں پرایا تھا
وہی جنوں وہی وحشت وہی عاشقی کا موسم
سکوں کی خاطر ہم نے بھی دل جلایا تھا
بھٹکتی روحیں تھیں اور تھیں فراق کی راتیں
سلگتے انگاروں پے توں نے خوں بہایا تھا
تڑپتی سانسیں بھی کرتی ہیں منتشر روح کو
وہ لمحے خواب ہوئے جن میں سکون پایا تھا
ہوئے ہیں راکھ تیرے کوچے کے اڑتے پتے بھی
بھڑکتی آگ میں ہم نے بھی زخم کھایا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







