دسمبر اگیا ہے آؤ اپنا دل جلاتے ہیں
Poet: zeest.sun By: zeest.sun, u a e چلو کچھ مسکراتے ہیں چلو کچھ گنگناتے ہیں
دسمبر آگیا ہے آؤ اپنا دل جلاتے ہیں
بہت مسرور ہیں ہم آگیا ملنے وہ برسوں بعد
چلو کچھ ناز نخرے جا کے ہم اُس کے اٹھاتے ہیں
یہ مانا ہے بڑا مغرور سا بھیگا دسمبر یہ
ستایا جس طرح اس نے اسے ہم بھی ستاتے ہیں
چلو پوچھیں ستمگر سے جو جاں سے پیارے ہوتے ہیں
اگر وہ روٹھ جائیں تو انہیں کیسے مناتے ہیں
یہ وعدہ لیں دسمبر سے وہ ملنے آئے دوبارہ
اسے ہر سال کتنے پیار سے موسم بلاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






