دسمبر کی سرد راتوں میں
Poet: Ghazala Iqbal By: Ghazala Iqbal, Rawalpindi تم سے دور ہو کے جاناں
کبھی اجڑے شاموں کو دیکھنا
کبھی بھیگی آنکھوں سے جاگنا
کبھی بیتے لمحوں کو سوچنا
تم سے دور ہوکے جاناں
کبھی ڈھلتے سورج کو دیکھنا
کبھی ادھوری چاند کو دیکھنا
کبھی ٹوٹی ہوئی تاروں کو سمٹانا
تم سے دور ہو کے جاناں
کبھی اپنے آرمانو ں کو دفنا دینا
کبھی اپنے باغی دل کو سمجھنا
کبھی ہوائوں سے تیرا حال پوچھنا
کبھی دسمبر کی سرد راتوں میں تمہیں ڈھونڈنا
تم سے جدا ہوکر یہی حال ہےجاناں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






