دسمبر
Poet: Mohsin Ali Mohsin By: محمد محسن, karachiغم عشق میں تو انسان بکھر جاتا ہے
عقل والا بھی یہاں نادان نظر آتا ہے
کیا ہوتا ہے ثمر جب ہو ہجر کی نظر
وصل و ہجر ہی سے تو گداز نکھر جاتا ہے
پوچھا ایام غم سے گزرنے کے مفادات ہیں کیا؟
کہا سہہ سہہ کر غم انسان افکار و فکر پاتا ہے
پوچھا سب سے بڑی عیاری محبوب ہے کیا؟
کہا اظہار وہ محبت کا کرکے مکر جاتا ہے
پوچھا آپ کو تو عشق کا تجربہ ہے بہت؟
کہا عشق میں تو وقت ٹھہر جاتا ہے
پوچھا محسن دسمبر کے بارے میں خیال ہے کیا؟
کہا دل تو گداز پاتا ہے پر جسم ٹھٹھر جاتاہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






