دعاؤں میں اثر آرہا ہے دیڑے دیڑے
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaدعاؤں میں اثر آرہا ہے دیڑے دیڑے
یار آتا ہوا نظر آرہا ہے دیڑے دیڑے
منزل پہ اب پہنچ جاؤنگا میں یقینا
میرا راہنما ، رہنر آرہا ہے دیڑے دیڑے
طبیعت میں کچھ سکون محسوس کر رہا ہوں
لوٹ کر بے خبر آرہا ہے دیڑے دیڑے
اب نہ ستا پاؤگے تُم مجھے اہلِ شہر والوں
میرا باقدر، دلبر آرہا ہے دیڑے دیڑے
نہالؔ جی محبتوں کا کیا خوب اثر ہوا ہے
کہ سخن نگاری کا ہنر آرہا ہے دیڑے دیڑے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






