دعاؤں میں جو ذکر ہے
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL , Gujranwalaدعاؤں میں جو ذکر ہے
اُس میں تری فکر ہے
میری رگوں میں جان ہے
وجہ یہ تمہاری مسکان ہے
سجدے میں جب میں گِروں
تری لئے میں رو پروں
ترا چاند جیسا نصیب ہو
ہر تارا ترا حبیب ہو
ترے خواب پورے خدا کرے
خود بقاء تری بقاء کرے
خودمنزلیں تجھے آواز دیں
جب گاؤ ہوائیں ساز دیں
ترے نور سے وضو کروں
تری آنکھ سے آیت پڑھوں
تجھے کس طرح بتلاؤں میں
تجھے کس طرح سمجھاؤں میں
میری اُمید تم ، آس ہو
کومل پَری کوئی خاص ہو
تری زلف کا رومال ہوں
میں شاعر ترا نہالؔ ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






