دلبر
Poet: Sye Ehsan By: syed ehsan ali shah, karachiتیرے چہرے کی دلفریبی پر
میری آنکھوں کا مرتکز ہونا
اور حیا سے بھری نگاہوں کا
یوں اچانک تیرا جھکا دینا
میری چاہت کا سبب تم ہی ہو
صرف تم ہی ہو بس اب تم ہی ہو
پہلے کچھ بھی تو نا تھا میرے پاس
اب جو کچھ بھی ہے وہ سب تم ہی ہو
نقاب نیم سے جو جھانکتی نگاہ دیکھی
یوں چلتی پھرتی ہم نے پہلی قتل گاہ دیکھی
جو مجھھ کو چھوڑنے آیا تھا باتوں باتوں میں
وہ میرے ساتھ بہت دور تک نکل آیا
جو میرے بولنے سے بیشتر ہی بول پڑے
اسے ملے جو میرا خط تو کیسے کھول پڑھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






