دل اس نظر کی تلاش میں ہے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillحقیقتوں کی گرہ جو کھولے
دل اس نظر کی تلاش میں ہے
شعور ہستی کو ڈھونڈتا ہے
صبا سحر کی تلاش میں ہے
وہ جس سے دنیا میں رونقیں تھیں
سامان سارا وہ کھو چکا ہے
پتنگوں کا شوق مر چکا ہے
شمع شرر کی تلاش میں ہے
میں ایک اجڑا ہوا چمن ہوں
گیا سمے ہوں بجھا دیا ہوں
چشم براہ ہوں کسی مکیں کا
مکین گھر کی تلاش میں ہے
تمازتوں سے جو ڈر رہے ہوں
وہ ساتھ اسکا نبھائیں کیسے
میں جا رہا ہوں ہوا کی جانب
وہ ہمسفر کی تلاش میں ہے
فضا میں آنسو بکھر رہے ہیں
خلا میں کرنیں سمٹ گئی ہیں
سسک رہے ہیں یہ چاند تارے
چکور پر کی تلاش میں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






