دل بار بار پیار کی دہائی دیتا ہے
Poet: Sobiya Anmol By: Sobiya Anmol, Lahoreدل بار بار پیار کی دہائی دیتا ہے
نہیں سمجھتا کہ یہ جدائی دیتا ہے
خوشیوں کی اِک جھلک دکھا کے
غموں کی سخت پرچھائی دیتا ہے
امیدیں سب کی سب توڑ دیتا ہے
درد دل ہی میں انتہائی دیتا ہے
بدنامیاں فرقتیں ٗ ذلّتیں ٗ ندامتیں
یہ سب محبت کی کمائی دیتا ہے
بُلا لیتا ہے اپنے دیار میں مگر
بُلا کے بُری طرح رُسوائی دیتا ہے
لمحہ لمحہ دفن رکھتا ہے یہ
سوچوں کی دلچسپ گہرائی دیتا ہے
نا آشنا کر دیتا ہے سنسار سے
بھری محفل میں تنہائی دیتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






