دل بے اماں نہ ستاؤ پھر ہمیں
Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آباددل بے اماں نہ ستاؤ پھر ہمیں
سرگوشیاں اس کی نہ سناؤ پھر ہمیں
بڑی قیمت چکائی ہے ہم نے خوابوں کی
بے تعبیر خوابوں کو نہ دکھاؤ پھر ہمیں
ہاں اس کے بن زندگی بہت ادھوری ہے
ضبط کچھ تو رہنے دو نہ آزماؤ پھر ہمیں
ابھی عروج پہ ہے اداسی اور درد سے شناسی
کچھ پل کو ٹھر جاؤ بہلاؤ پھر ہمیں
ہم کتنے عزیز ہیں تم سے قریب ہیں
مل کر تم کبھی بتاؤ پھر ہمیں
محبتوں سے میرے غم کی نفی کرو تم
امر کر دو یا مٹاؤ پھر ہمیں
سزاوار ء محبت ہیں ہم طالب وفاؤں کے
دل کی سچائیوں سے نبھاؤ پھر ہمیں
شاید کہ لوٹ آؤ تم بھی کسی روز
شاید کہ منتظر نہ پاؤ پھر ہمیں
ممکن ہے آنکھوں میں ہوں تمہارے مداوتیں
ممکن ہے تشنا لب نہ پاؤ پھر ہمیں
تمہیں فاصلوں کی طلب، ہمیں قربتوں میں قرار
واجب ہیں فاصلے تو بھلاؤ پھر ہمیں
اترو کبھی میرے دل کی ویرانیوں میں
لازم ہے چھوڑ کر نہ جاؤ پھر ہمیں
ہم روٹھ رہے ہیں آج پھر عنبر
آؤ کہ لوٹ کر مناؤ پھر ہمیں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






