دل تو وہ دے ہی گیا ہے ارادتا مجھ کو
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillآرزو ہے کہ سمیٹے وہ نیتاً مجھ کو
جو ابھی سوچتا رہتا ہے عادتاً مجھ کو
میں اگر کھو گیا تو پھر نہ ہاتھ آؤں گا
دیکھ دنیا میں نہ الجھا شرارتاً مجھ کو
آج بھی راہ کے پتھر سے جو کھائی ٹھوکر
یاد آیا وہ ستمگر ہی دفعتاً مجھ کو
خیر ہے وصل کی گھڑیاں بھی آ ہی جائیں گی
دل تو وہ دے ہی گیا ہے ارادتاً مجھ کو
فیض ہے یہ بھی تمہارا کہ چھوڑ دیتا ہوں
کام لگتا ہے جو آسان نسبتاً مجھ کو
اسکو معلوم ہے اندر کی کیفیت ساری
چھیڑ دیتا ہے یہ موسم بھی حجتاً مجھکو
ہائے اس شوخ مسیحا کی وسیع القلبی
چھوڑنے آیا وہ مقتل میں عزتاً مجھ کو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






