دل دنیا سے کٹ گیا ہے
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamاسے پیار کر کے دل دنیاسے کٹ گیا ہے
ٹوٹےآہینےکی صورت ٹکڑوں میں بٹ گیا ہے
من میں ایک ذرہ بھر بھی جگہ نہیں بچی
میرا دل اس کی یادوں سے اٹ گیا ہے
جو کئی دنوں سےمیرے سر پہ لہرارہاتھا
آج وہ درد بھرا بادل بھی چھٹ گیا ہے
کل شب کوئی خواب میں ملنے آیا تھا
نہ جانے کیا سوچ کر وہ پلٹ گیا ہے
ایسےسرپھرے محبوب کاکیاعلاج کروں
جو مجھ سے نہ ملنے پہ ڈٹ گیاہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






