دل سے اٹھتے ہوئے آج تم بھی شرارے دیکھو
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, RAWALPINDIدل سے اٹھتے ہوئے آج تم بھی شرارے دیکھو
سامنے آکر یہ تماشا میرے پیارے دیکھو
تم نے دیکھی نہیں منتظر کی کیفیت جاناں
اپنے قدموں میں اور میری آنکھوں کے کنارے دیکھو
دل میں ہوتی نہیں روشن اب کوئی اور شمع
تیری صورت کے ہیں پیاسے سب چاند ستارے دیکھو
اب ناممکن ہے کسی غم کا ہراساں کرنا
میں کب کا کھڑا ہوں موت کے کنارے دیکھو
اب یہی صورت ہے میرا درد مٹانے والی
ہاتھ پکڑو اور مرض ہمارے دیکھو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








