دل سے خیال گزرا ہے
Poet: Iman Hashmi By: Iman Hashmi, KSAابھی ابھی دل سے خیال گزرا ہے
کوئی شخص سپنوں کے پار اترا ہے
جس کی رفاقت کا ہر لمحہ بہار گزرا ہے
جس کی محبت کا ہر بول زندگی بن کے برسا ہے
وہ پل ہمارے لیے آج بھی سنہرا ہے
جو شخص ہمارا ہم خیال گزرا ہے
اسی کا تعاقب کرتی نگاہوں کا ہر پل احساس رہتا ہے
اس کی جادو بھری باتوں کا خمار رہتا ہے
اس کے دوبارہ خواب میں آنے کا انتظار رہتا ہے
اسی تلاش میں ہمارے خوابوں کا قافلہ
آج پھر اسی وادی میں اترا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






