دل سے میری چاہت کو ہر گز نہ مٹا رکھنا
Poet: داد بلوچ فورٹ منرو By: داد بلوچ, Dera Ghazi Khan Fort Munroدل سے میری چاہت کو ہر گز نہ مٹا رکھنا
آؤں گا میں خوابوں میں خوابوں کو سجا رکھنا
ہر شام یہ عادت ہے نا کامِ محبت کی
یادوں کی منڈیروں پر کچھ دیپ جلا رکھنا
لالہ کے تصور میں مخمور نگاہوں کو
اشکوں کے دئیے روشن آنکھوں کو بجھا رکھنا
ہر شام جدائی کی محفل کو سجا لینا
بے داد و ستم سہنا احساسِ وفا رکھنا
اس ظلمتِ دوراں کا یہ دادؔ تقاضا ہے
شمعوں کو بجھا دینا اور دل کو جلا رکھنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






