دل سے نکال کر
Poet: صاحبزادہ محمد شاہ میر مغل By: صاحبزادہ محمد شاہ میر مغل , Lahoreشکوے شکایتیں سبھی دل سے نکال کر
مجھ سے بھی گفتگو کبھی اے خوش مقال کر
مرنے کے بعد بھی تری ہوتی رہے گی دید
میں چھوڑے جا رہا ہوں یہ آنکھیں نکال کر
کر دائمی عطا مجھے غم ہو کہ یا خوشی
اتنی سی آرزو ہے مجھے لازوال کر
بجھنے کو ہے چراغِ غمِ دل ہوائے تند
ڈھلتی ہوئی حیات کا ہی کچھ خیال کر
زلفیں گرا تو چاند سے چہرے پہ اس طرح
دن رات کا ملاپ ہو ایسا کمال کر
یونہی نہیں ہوا ہے دھنک رنگ آسمان
آیا ہے دور وہ کہیں آنچل اچھال کر
اک بے وفا کے ہجر میں رونے کو شاہ میر
رکھے ہیں میں نے آنکھ میں آنسو سنبھال کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






