دل سے
Poet: Zeeshan By: Zeeshan, muzaffargarhتیرے سبھی غموں کو سمیٹ لوں میں تجھے اتنا پیار دوں
تیری اداسیوں کو مٹا کے تیری ہر شام نکھار دوں
تیری آنکھوں میں چھپی خزاں میرے دل پہ اثر کر گئی
تیرے وجود کو مہکا دے جو تیرے لبوں کو وہ بہار دوں
تیری اک مسکراہٹ کا بدل کچھ ہو نہیں سکتا مگر
جو ملے تجھے خوشی اگر میں جاں بھی اپنی واردوں
آگیا ہے جو ہجر کا دور جو تیرے میرے درمیاں
جو ملیں مجھے فرصتیں تو یہ وقت کا قرض اتاردوں
تیرے دل کی رونقیں جو مرجھا گئی ہیں جو اس طرح
لگا کے اپنے سینے سے تیری دھڑکنوں کو قرار دوں
تنہائیوں کے طوفانوں سے جو بکھر گئی ہیں سبھی
جو تو کہے تو اگر آ تیری ہر زلف کو سنواردوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







