دل لگی
Poet: Muhammad Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Attockچلو پھر شرط لگ جائے
میں بھی ثابت کر دونگی
کہ تم نے دل لگی کے ہے
محبت نام کی، کی ہے
سن کر اسکی باتوں کو
میں بولا سدا دل لڑکی
اگر میں دل لگی کرتا
تو جینے سے نہ یوں ڈرتا
محبت نام کی کرتا
وفائیں عام سی کرتا
مگر پھر بھی انا تیری
تیری تسکین کی خاطر
یہ کہتا ہوں
ہاں میں نے دل لگی کے ہے
تجھے اپنا ہی سمجھا تھا
تجھے دل کی سے لگایا تھا
جہاں نہ کوئی گم پہنچے
وہاں تجھ کو چھپایا تھا
مگر جاناں یقین جانو
تمھارے حوصلےکی داد دیتا ہوں
کہ کتنی بے رخی سے تم نے کہ ڈالا
چلو پھر شرط لگ جائے
کہ میں نے دل لگی کی ہے
لبوں پر انگلیاں رکھ کر
مجھے خاموش کر ڈالا
حسین آنکھوں میں آنسو تھے
وُہ بولی ہچکیاں لے کر
خدارا بس کرو اب
کہ نہ کوئی شرط ڈالوںگی
نہ پھر سے لب کو کھولوں گی
نہ پھر سے دل ٹٹولوں گی
ہے یہ پختہ یقین مجھ کو
کہ تم نے عاشقوں سے بڑھ کر
مجھ سے عاشقی کی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






