دل میرا سومنات یو جیسے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillبے خودی شش جہات ہو جیسے
جیت سے بڑھ کے مات ہو جیسے
راز کھلتے ہی چلے جا رہے ہیں
آنکھ میں کائنات ہو جیسے
زندگی کے ہر اک فسانے میں
تیری میری ہی بات ہو جیسے
یوں چلے آتے ہو محمود بن کر
دل میرا سومنات ہو جیسے
ہر قدم پر گمان ہے اب بھی
تو میرے ساتھ ساتھ ہو جیسے
دمک اٹھتی ہے تیری آہٹ سے
روح میں چاند رات ہو جیسے
سوچ کے ہر حسیں جزیرے میں
وحشتوں کو ثبات ہو جسے
ڈھونڈتے پھر رہے ہو را فرار
قفس اپنی ہی ذات ہو جیسے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






