دل میں کسی کو بسا نہ سکے اک تیرے آنے کے بعد
Poet: By: Niyaz khan, lahoreدل میں کسی کو بسا نہ سکے اک تیرے آنے کے بعد
کسی اورک چاہ نکر سکے اک تیرے چاھنے کے بعد
کسی اور کو آزما نہ سکے اک تیرے آزمانے کے بعد
کوئی اور کہانی لکھہ نہ سکے اک تیرے افسانے کے بعد
آنسو اب تک تھم نہ سکے اک تیرے رولانے کے بعد
وہ نشہ کبھی اتار نہ سکے اک تیرے پلانے کے بعد
کوئی اور اٹھا نہ سکے اک تیرے غم اٹھانے کے بعد
کوئی اور اجالا کر نہ سکے اک تیرے بجھانے کے بعد
زندگی سے وفا بھی کر نہ سکے اک تیرے جانے کے بعد
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






