دل میں کچھ الجھے لگتے ہیں آپ
Poet: SHOAIB By: M.Shoaib, Lahoreدل میں الجھے لگتے ہیں آپ
بہکے سے کچھ، کچھ بکھرے لگتے ہیں آپ
سنا تھا خوب ہنستے ہیں چمکتے ہیں
لبوں پہ چھپے غم رکھتے ہیں آپ
جب یاد آتے ہیں، بہہ جاتے ہیں
سرمئی رات کے اشک لگتے ہیں آپ
غزل پڑھتے ہیں ، جس ادا سے شعر کہتے ہیں
ارے، آنکھوں سے عاشق لگتے ہیں آپ
کبھی لگتا ہے پہلو میں بیٹھے ہیں
کبھی اک گمشدہ خط لگتے ہیں آپ
کہا نا. مٹ سمیٹیے، میں تارا ہوں ٹوٹا سا
آپ کی تو کیا بات ہے، مہکا سا چاند لگتے ہیں آپ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






