دل ُان سے خفاء اب بھی نہیں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , Saudi Arabiaکیا کیا نا کیے ستم ہم پر
اور دل ُان سے خفاء اب بھی نہیں
کتنے بجھ گئے چراغ جلتے جلتے
اور انتظار ہوا ختم اب بھی نہیں
رات کو ُاڑوھ کر سو رہی تھی چاندی
اور تعجب کہ آفتاب بیقرار اب بھی نہیں
تمہاری یادوں کا سلسلہ دعا تک جا پہنچا
اور اُسے ہمارا خیال آیا اب بھی نہیں
یہ کیسی کشمش میں ڈوبی جا رہی ہوں
جو ملتا ہیں خوابوں میں لیکن نظر آیا اب بھی نہیں
ُاس کے شہر میں ہم گئے تھے گلاب لے کر
اور ُانہیں ہم پے پیار آیا اب بھی نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






