دل ِکے گلشن کو سونپ آتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا کاوش۔۔۔۔2
دل ِکے گلشن کو سونپ آتے ہیں
درد اگتا رہا مٹاتے میں
جب بھی جلتا ہے یاد کا دیپک
کیا قباحت ہے دل لگاتے میں
میں نے دیکھا ہے عشق کا جذبہ
تیرے دربار میں بُلاتے میں
آج اتنی پلا دی آنکھوں سے
لطف آئے گا دل لگاتے میں
اور ملتی نہیں کسی شے سے
جتنی عزت ہے آزماتے میں
بجھ رہا ہے یہ دوستی کا دیا
رہ گیا کچھ نہ وە بچھاتے ہیں
میں نہ پہنچوں گی وقت پر وشمہ
آج مشکل ہے جو گراتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






