دل پہ حکمرانی
Poet: UA By: UA, Lahoreکتنے طوفان میں نے دل میں اٹھا رکھے ہیں
کتنے مہمان میں نے دل میں بٹھا رکھے ہیں
میری ہر بات پہ جو اعتبار کرتے ہیں
کتنے نادان میں نے دل میں چھپا رکھے ہیں
جو میرے دل پہ حکمرانی کیا کرتے ہیں
کتنے سلطان میں نے دل میں بٹھا رکھے ہیں
تم جو چاہو تو کبھی تم کو بھی دکھا دیں گے
کتنے ارمان میں نے دل میں دبا رکھے ہیں
تیری آمد کے لئے روز پھول چن چن کر
کتنے گلدان میں نے دل میں سجا رکھے ہیں
داغ جو بھی ملا وہ دل میں دفن کرتے گئے
کتنے شمشان میں نے دل مین بنا رکھے ہیں
دل کی ویرانیاں بھی بزم کا سامان ہوئیں
کتنے ویران میں نے دل میں بسا رکھے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






