دل چاھتا ھے۔۔۔
Poet: اسد جھنڈیر۔۔۔ By: اسد جھنڈیر۔۔۔, میر پورخاص۔۔۔ تھوڑا مسکرائو کہ دل چاھتا ھے
اور قریب آئو کہ دل چاھتا ھے
یہ قربتیں محبت کا پیام دیتی ہیں
فاصلے گھٹائو کہ دل چاھتا ھے
کیوں اداس بیٹھے ہو اور کسلیئے؟
ہنسو مسکرائو کہ دل چاھتا ھے
کب سے ہیں مشتاق دید کی تیرے
اپنا جلوہ دکھائو کہ دل چاھتا ھے
لو وہ آ گئے رونق محفل
جشن منائو کہ دل چاھتا ھے
کیوں حشر کل پنہاں رکھتے ہو؟
پردہ اٹھائو کہ دل چاھتا ھے
عہد سے اپنے پھرتے ہو کیونکر؟
وفا توڑ نبھائو کہ دل چاھتا ھے
اسد کے غموں کو بھاڑ میں ڈالو
بس ہنسو مسکرئو کہ دل چاھتا ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






