دل چاہتا ہے
Poet: Ashan Khan By: Nighatara, lahoreدل چاہتا ہے تیری آنکھوں کے کاجل میں چمکے چاند
تیرے بالوں کی سیاہی کو ستاروں سے سجا دوں
تیرا ہنسنا ہو ایسا جیسے چلتے پرندے
تیری ہنسی کو دیکھ کر میں رونا بھلا دوں
تیری آنکھوں میں بکھری شبنم کو چرا لوں
تیرے دل کی بات کو تیرے ہونٹوں پہ بلا لینا
تیرے ہاتھوں کی لکیروں کو میں بدلوں کچھ طرح
کہ میری زندگی میں تیرا ساتھ ہو جس طرح
تیرے پاؤں کی مہندی کو ہیروں سے سجادوں
تیری مہندی کے رنگ کو اپنے خون میں بسا لوں
تیرا ہنسنا ہو ایسا جسے دل کی دھڑکن
تیری ہنسی کو میں اپنے دل میں بسا لوں
بس اتنی سی خواہش ہے میرے دل میں
چاہتا ہے کہ تو کہے تو تیرے لیے میں اپنی جان تک گنوا دوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







