دل کا چین
Poet: asad By: asad, mpkلیٹے بھی چین دل کو کہین آرام نہین ملتا
ڈھونڈہین قرار اب کہان کوئی بام نہین ملتا
ان سے حال دل کہتے ہمکو موت آتی ھے
اور بن کہے بھی سکون کوئی آرام نہین ملتا
کہنے کو تو شاد ہین ہم اپنی دنیا مین
مگر خوشی کا کوئی لمحہ برائے نام نہین ملتا
وہ بھی بچون سی ضد لیے رہتا ھے ہر گھڑی
جائو تو کبھی صبح وہ کبھی شام نہین ملتا
وہ جو دل کی تختی پر کندہ ھے ہمارے
بارہا ڈہونڈھا کیے ہم مگر وہ نام نہین ملتا
ھم کو غم ہجر کی راتون پر ناز ھے
جن مین ایک پل کو بھی آرام نہین ملتا
اس دل پر چھاپ عشق کی ایسی چھپی ھے
کہ دل کو ہنوز ما سوا کوئی اب کام نہین ملتا
خدا جانے زمانے کو نظر کس کی لگ گیئ
با ادب تھا کبھی اب اس مین احترام نہین ملتا
اسد سلام عشق خط مین روز ان کو لکھتا ہون
مگر وان سے کوئی جواب مین سلام نہین ملتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






