دل کا کیا ہےکام یہ ہم آج تک سمجھے نہیں
Poet: NADEEM MURAD By: NADEEM MURAD, umtata southafricaدل کا کیا ہےکام یہ ہم آج تک سمجھے نہیں
چیز کیا ہوتی ہےیہ غم آج تک سمجھے نہیں
چوٹ لگتی ہے کسی کو دل مرا دکھتا ہے کیوں
کیوں خوشی پہ آنکھ ہو نم آج تک سمجھے نہیں
کون تنہا ہےمگر احساس تنہائی بہت
دور کیوں رہتا ہے جانم آج تک سمجھے نہیں
مرتے دم جب دیکھ کر تجھ کو دھڑک اٹھا تھا دل
دم میں کیسے آیا تھا دم آج تک سمجھے نہیں
زندگی ہر روز بڑھتی ہے یہ ہی آیا سمجھ
روز ہو جاتی ہے کیوں کم آج تک سمجھے نہیں
کیا نظر کے تیر نے مارا سمجھ آیا ذرا
کیا کمان ابروء خم آج تک سمجھے نہیں
تجھ سے ملنے میں رکاوٹ تھا زمانا تھا پتا
باریشیں ہونگیں چھما چھم آج تک سمجھے نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






