دل کسی کو دیا نہیں ہوتا
Poet: By: UA, Lahoreدل کسی کو دیا نہیں ہوتا
عشق تم نے کیا نہیں ہوتا
ہم نے چاہا کہ سوچ کر دیکھیں
ہم نے تمہیں چاہا نہیں ہوتا
تو یہ رسوائیاں نہیں ملتیں
اپنا چرچہ یہاں نہیں ہوتا
ہم تو سدا کے بےچین ہیں
کاش تم کو کیا نہیں ہوتا
میری آنکھوں نے جو سجایا ہے
خواب تم کو دیا نہیں ہوتا
تمہیں اپنا دل سونپ کر
دل تمہارا لیا نہیں ہوتا
ہم تیرے شہر میں نہیں آتے
یہ مسافر تباہ نہیں ہوتا
بزم اغیار سے چلے جاؤ
دوستوں سے گلہ نہیں ہوتا
یاد کرتے ہیں تمہیں اس لمحے
جس گھڑی کوئی بھی نہیں ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







