دل کو سمجھاتا ہوں
Poet: By: Hukhan, karachiروز خود کو سمجھاتا ہوں
دل کو بھی بہلاتا ہوں
کیا میں بھی محبت کو جانتا ہوں
یا خود کو بس آزماتا ہوں
قابل نہیں میں اس کے جانتا ہوں
دور ہو کے بھی پاس ہو جاتا ہوں
دل وہیں اس کی چوکھٹ پہ چھوڑ آتا ہوں
آنکھوں کو بھی ہر پل سمجھاتا ہوں
جانے کیوں نئے خواب بے وجہ سجاتا ہوں
ہے وہ ہمسفر پھربھی تنہا رہ جاتا ہوں
کارواں آگے میں پیچھے رہ جاتا ہوں
دوست بن گئے دکھ بس اب ہر پل مسکراتا ہوں
یہ دکھ اب روز ہی کھاتا ہوں
خار ہیں ہر سو میرے لیے جانتا ہوں
ہو جائے اب وہ کسی اور کا یہ چاہتا ہوں
خان چھوڑو محبت کرنا میں دل کو روز سمجھاتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






