دل کی بند کتاب
Poet: Nasir Ali By: Nasir Ali, Islamabadدل کی بند کتاب اے دوست
تجھے سوچ کرکبھی کبھی کھل جاتی ہے
میرا تو تو ہی سب کچھ تھی
اسی لیئے تو رہ رہ کے یاد آتی ہے
اپنا بنانا چاہا تھا میں نے تجھ کو
تیرے بنا یہ زندگی ستاتی ہے
مجھے پتہ تھا یہ ہو نہیں سکتا
پھر نہ جانے کیوں تو سپنوںمیں آتی ہے
بھولنے کی میں نے تجھ کو کوشش تو خوب کی
چاہت پر تیری اب بھی مجھ کو کیوں رولاتی ہے
جلا دیے ہیں ناصر نے پیار کے وہ خط
محبت تو پھر نہ جانے بڑھتی کیوں جاتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






