دل کی وادی میں
Poet: Farkhanda Rizwi By: Shazia Hafeez, Attockلوگ کہتے ہیں کہ جب گھر بدلتے ہیں
تو خیالات بدل جاتے ہیں
میں تو نہیں بدلی اب تک
میرے خیالات کی وادی میں تو وہی ہے
میں رات کی تنہائی میں
ابھی دور بہت دور نکل جاتی ہوں
تحریروں کی صورت ہر روز
ہی کاغذ پہ بکھرنے کیلئے
کبھی محبت بن کر اور کبھی وفا بن کر
ہر رات بکھرتی ہوں
پہلو میں
آنکھوں میں بسے سپنے
ہنساتے ہیں اور کبھی رلاتے ہیں مجھے
قہقہے جو برسیں تو دن بھول جائیں
آنسو جو گریں دامن میںاک
آگ لگا جائیں
دل کی وادی ان رنگوں سے سجی
نا بدلی ہے نا بدلے گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







