دل کے دریا میں اتر کے دیکھو
Poet: Imran Raza By: Syed Imran Raza, sargodhaدل کے دریا میں اتر کے دیکھو
تم محبت مجھ سے کر کے دیکھو
پھر تمہیں میری طلب ہو شاید
تم کبھی مجھ سے بچھڑ کے دیکھو
عشق کا ساگر بہت ہے گہرا
ڈوب کر خود بھی ابھر کے دیکھو
دنیا پھر لگنے لگے گی دلکش
اس کو میری نظر سے دیکھو
پیار کہتے ہیں کسے، ذرا تم
میری بانہوں میں بکھر کے دیکھو
میرا غم محسوس کرنا ہو تو
میری راہوں سے گزر کے دیکھو
کیا اثر ہوتا ہے بے رخی کا
میری چاہت سے مکر کے دیکھو
جو دیوانے نے ہے دیکھا، تم بھی
اس کی آنکھوں میں سنور کے دیکھو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







