دل کے در و دیوار
Poet: By: Shabir Akhtar, karachiبہت چپ چپ سے ہیں دل کے در و دیوار آجاؤ
اذیت میں اکیلے پن سے ہیں بیزار آجاؤ
تمہاری یاد آتی ہے تو یہ سانسیں اکھڑتی ہیں
نہیں ہوتا ہمارے دل سے یہ انتظار آجاؤ
بہت شکوے ہیں تم کو، بہت ناراض ہو مجھ سے
مٹا ڈالوں گا ہر شکوہ فقط اک بار آجاؤ
ہوائیں سرسراتی ہیں جگر میں ہوک اٹھاتی ہیں
گھٹائیں بھی برسنے کو ہیں اب تیار آجاؤ
کبھی ساون کی بارش میں کبھی تپتی دوپہروں میں
ہر اک موسم میں راحت کا ہو تم اظہار آجاؤ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






