دل کے صندوق میں چھپی باتیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachiدل کے صندوق میں چھپی باتیں
میں نے کہہ دی ہیں ان کہی باتیں
تُو نے جو جو کہیں رقیبوں سے
پسِ دیوار وہ سُنی باتیں
جب بھی اڑتی ہے پیار کی خوشبو
سب سے کرتی ہے روشنی باتیں
میں بیاضِ جنوں میں لکھتی رہی
اپنے اشعار ، آپ کی باتیں
جان دے دوں گی میں تری خاطر
یاد رکھیے گا یہ مری باتیں
میں حقیقت ہوں ہے مجھے یہ خبر
مجھ سے کرتی ہے زندگی باتیں
نیم شب اس دیارِ فرقت میں
وشمہ کرتے ہیں سب تری باتیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






