دور چلے آئے اپنوں سے ، خاک ہماری عید ہوئی
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKدور چلے آئے اپنوں سے ، خاک ہماری عید ہوئی
مل کر چاند کو دیکھا نہ تو اِک دوُجے کی دید ہوئی
حالِ غم کہہ دینا سب سے اتنا بھی آسان نہ تھا
آج غنیمت مجھ کو اپنے اشکوں کی تمہید ہوئی
تو تقدیر بدل دیتا ہے اک ہی لمحے میں مولا
تیری نظر کرم سے سب کی بار آور امید ہوئی
میرے اندر بیٹھا کوئی دھیرج مجھ کو دیتا تھا
دنیا کی نیرنگی سے میں جب جب نا اُمید ہوئی
شاید یہ اعجاز تھا میرے جذبوں کی سچائی کا
اُن کی چاہت اِک ذرہ تھی لیکن اب خورشید ہوئی
برسوں سے بس مجھ کو تیری ایک جھلک کی حسرت تھی
چمکا آج مقدر میرا مجھ کو تیری دید ہوئی
کوئی مٹتا ہے تو اور جنم لے لیتا ہے
لاکھوں پھول مٹے تب جا کر خوشبو آج کشید ہوئی
اِس سے بڑھ کر اور سِتم کیا ہوگا دنیا میں عذراؔ
تڑپوں پر نہ آ نسو چھلکیں مجھ کو یہ تاکید ہوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






