دوستی عشق کی لہر لگتی ہے
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, RAWALPINDIدوستی عشق کی لہر لگتی ہے
ہر تمنا اشکوں کی نہر لگتی ہے
ابھی تم سے صرف نظر ہے ملی
ابھی سے خلوت کیوں زہر لگتی ہے
بزم عشق کے پیکر تو چلے گئے سارے
اب دنیا گہما گہمی کا قہر لگتی ہے
کوئی نہ پہنچا سن کے صدائیں میری
مجھے تو ساری دنیا ہی زہر لگتی ہے
یہ کتنی طویل شب غم تیرے تصور میں
نوید سحر رات کا پچھلا پہر لگتی ہے
کیوں آج مفلسی سے محتاج ہوا ضمیر اتنا
کہ آرزوئے زندگی بھی اک زہر لگتی ہے
یہ سب مسائل پیدا اولاد آدم نے کیے اشتیاق
جو کل تھی بستی وہ آج شہر لگتی ہے۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








