دوست و احباب کہتے ہیں
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamدوست و احباب کہتےہیں عوامی شاعرہوں
دشمن کہتےہیں تعریفیں کرنے میں ماہرہوں
ہماری ویب پہ مجھےملےاتنےپیارے سائے
وشمہ لکی سویرا یہ لوگ میں نے یہیں پائے
ایک صاحبہ ایک ماہ میں ایک بار آتی ہیں
ہماری ویب پہ بڑی دھوم مچا کر جاتی ہیں
وشمہ جی بے حد پیاری اور نیک دل ہیں
وہ پرانی کرم فرما میری اورمستقل ہیں
لگتا ہے وہ کم کھاتی اور کم سوتی ہیں
جب شاعری کرتی ہیں موتی پروتی ہیں
میرےاشعارمیں شیداں ہو جاتی ہےگم شدہ
وہ بیچاری نہیں جانتی میں ہوں شادی شدہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






