دولت کا زمانہ یے
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadنفرتوں کی ویرانی میں چاہت کی بزم کیا ہے
زمانے کو دیکھاؤں گا محبت کا عزم کیا ہے
رہو آپس میں مل جل کر یہ مذہب کی باتیں ہیں
زمانے نے کیا جُدا زمانے کا دھرم کیا ہے
محبت ہی محبت ہے میرے دل کی ویرانی میں
کوئی پوچھے ذرا ان سے بھلا میرا جرم کیا ہے
بیگانہ تو بیگانہ کوئی اپنا بھی نہیں اپنا
سوالی پہ محبت کے یہاں یا رب یہ ظلم کیا ہے
محبتوں کے گلستان میں نفرتوں کے کانٹے ہیں
یہاں بہار کے موسم میں یارب یہ الم کیا ہے
کٹتے ہیں شجر دیکھو جلتے ہیں آشیانے بھی
یہ آزادی کی فضاؤں میں لوگوں پہ سِتم کیا ہے
دولت کا زمانہ ہے، ساجد الفت تو بہانہ یے
خود غرص اِس دُنیا میں رشتوں کا بھرم کیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






