دونوں جہاں لٹا بیٹھا
Poet: Khalid Kasi By: Khalid Kasi, Quettaچنے ہیں ہم نے سب رنگ وفا کے دامن تیرا سجانے کو
دیکھ تو مڑ کے ایک نظر تو آ رہا ہوں منانے کو
کچھ بہا دیا ہے طوفانوں میں کچھ آندھیاں ساتھ لے اڑیں
کیوں آگ لے کر تم آئے ہو، اب کیا بچا ہے جلانے کو
کہا چادر دیکھ کے پاؤں پھیلا، سو پاؤں ہی اپنے کاٹ دئیے
چادر سنبھالو تم اپنی یہاں کچھ نہیں اب پھیلانے کو
ملا حکم جب چلنے کو، بے سروساماں ہی ہم چل دئیے
شہر چھوٹا چھوٹ گیا، آباد کریں اب ویرانے کو
کہا دل کی لگی اچھی نہیں، میری مان لے تو لوٹ آ
کیا ہی پاگل شخص ہے یہ، سمجھا رہا ہے دیوانے کو
کیا ضد تھی اس ستم گر کی، کہ رو کے تو دکھا دے مجھ کو
جو رو پڑے تو سب خون نکلا، آنسو نہیں تھے بہانے کو
کاسی سا سوداگر بھی کبھی، دیکھا ہے تم نے یہاں پہ کوئی
دونوں جہاں لٹا بیٹھا بس ایک شخص کے پانے کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






