دو قدم ہی تو ساتھ چلتا
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiدو قدم ہی تو ساتھ چلتا ہے
جانے کیوں سارا شہر جلتا ہے
کیوں نہ ہو سارا شہر ہی گھائل
بن سنور کے جو وہ نکلتا ہے
کالا تِل مجھ کو تُو نہیں بھاتا
اس کے چہرے پہ کیوں مچلتا ہے
ڈھلتے سورج سے کوئ پوچھے تو
کیوں مرے ساتھ ہی وہ ڈھلتا ہے
کیا عجب سانپ ہے جو انساں کی
آستینوں میں آ کے پلتا ہے
کتنا بےبس ہے میرا دشمن بھی
مجھ کو دیکھے تو ہاتھ ملتا ہے
روز امیروں کے گھر چراغوں میں
کیوں غریبوں کا خوں پگھلتا ہے
یہ غلامی کا دؤر ہے باقرؔ
اب بھلا کون سچ اگلتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






