دو لاین شاعری
Poet: محمد مسعود By: محمد مسعود , نوٹنگھم یو کے(108)
مجھے تو روُلا دیا ہوتا کہ آنُسو ہی چھلک آتے
پلکوں میں رُوکے ہوۓ آنُسو کا درد سہا نہیں جاتا
(109)
ﻣﺰﺍﺝ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺟﻮﮞ ﺟﻮﮞ ﺷﻨﺎﺳﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ، ﺍﻭﺭ ﺗﻨﮩﺎ ، ﺍﻭﺭ ﺗﻨﮩﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ۔
(110)
جو اُس کی چاہ میں گزاری وہ زندگی ہے میری
اُس کے بعد تو گزارا ہے زندگی نے مجھے مسعود
(111)
میں اگر ٹوٹ بھی جاوں تو آنیہ ہوں
تم میرے بعد بھی ہر روز سنورتے رَہنا
(112)
وہ میرا ہو کر بھی مجھ سے محروم رہا
کوئی مجھ سا بھی جیت کےہارا ہو گا
(113)
ڈھونڈ رہا ہوں چلنے کی تدبیر کوئی
باندھ گیا ہے پیروں میں زنجیر کوئی
(114)
مجھ سے اب شاعری نہیں ہو گی
مجھے لفظوں نے مار ڈالا ہے
(115)
پانی سستا ہے تو پھر اُس کا تحفظ کیسا
خون مہنگا ہے تو ہر شہر میں بہتا کیوں ہے
(116)
اتنی شدت سے یاد آۓ ہو مسعود
جیسے پھر کبھی یاد ہی نہیں آنا
(117)
آو کچھ دیر تزکرہ کر لیں
مسعود
اُن دنوں کا جب تم ہمارے تھے
(118)
جو بھی آیا مجھے ٹھوکر سے نوازہ اُس نے
میں تو پھتر تھا مجھے کوئی اُٹھاتا کیسے
(119)
بچھڑی ہوئی راہوں سے جو گزُرے ہم کبھی
ہر غم پرکھوئی ہوئی ایک یاد ملی ہے
(120)
یوں تیری چاہیتں سمبھالی ہیں
جیسے عیدی ہو میرے بچپن کی
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






